Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
محمد صمد نام رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2074
- Issued
- 29 ربیع الاول 1445ھ / 16 اکتوبر 2023ء
Question
میرا نام محمد صمد ہے، سب بولتے ہیں عبد الصمد ہونا چاہئے تو کیا میں اس کو بدل کر عبد الصمد کر سکتا ہوں کوئی شرعی ممانعت تو نہیں ہے؟
Answer (beginning)
صمد اللہ پاک کے ان ناموں میں سے ہے جو اسی کی ذات کے ساتھ خاص ہیں، لہذا اس سے قبل لفظ عبد کا ہونا ضروری ہے تاکہ عبدیت کا اظہار ہو تو آپ بلا شبہ محمد صمد نام بدل کر عبد الصمد کر لیں۔ فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: ”صمد“ اللہ عزوجل کی ایسی صفت خاصہ ہے کہ اس کا اطلاق مخلوق پر جائز نہیں، اس لئے کہ صمد کے معنی ہے جو سب سے بے نیاز ہو اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہو اور ہمیشہ سے ہو ہمیشہ رہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.