Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام عروج رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2055
- Issued
- 22 ربیع الاول 1445ھ / 09 اکتوبر 2023ء
Question
بچی کا نام عروج رکھنا کیسا ہے؟
Answer (beginning)
"عروج" کا معنی ہے: سیڑھی پر چڑھنا۔ اونچا ہونا، بلند ہونا۔ (المنجد عربی اردو، صفحہ 549، خزینہ علم وادب، لاہور) (القاموس الوحید، صفحہ 1063، مطبوعہ ادارہ اسلامیات، کراچی) لہذا "عروج" نام رکھ سکتے ہیں۔ البتہ بہتر ہے کہ صحابیات یا اصحاب المومنین یا صالحات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں کہ حدیث پاک میں صالحین کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے جیسا کہ مندر الفردوس میں ہے: "تسموا بخیار کم" یعنی: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔" (مسند الفردوس، جلد 02، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: "بچے کا اچھا نام رکھا جائے۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.