Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وجیہہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2047
- Issued
- 18 ربیع الاول 1445ھ / 05 اکتوبر 2023ء
Question
"و جیہہ" نام کا کیا مطلب ہے؟ اور کیا لڑکی کا نام و جیہہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ برائے مہربانی اس سے متعلق رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
"و جیہہ" و جیہہ کی مؤنث ہے اور لغت میں "و جیہہ" کے معانی: "با و جہت، ذی مرتبہ، بارعب اور پر شوکت" آتے ہیں۔ ان معانی کے اعتبار سے لڑکی کا نام "و جیہہ" رکھنا جائز ہے۔ مگر بہتر یہ ہے کہ صحابیات و صالحات میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے کہ جس نیک شخصیت کے نام پر نام رکھیں گے ان کی برکتیں بچی کے شامل حال ہونے کی امید ہو گی کیونکہ احادیث مبارکہ میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: "تسموا بخیار کم واطلبوا حوائجکم عند حسان الوجوه" یعنی: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرہ والوں سے طلب کرو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.