Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قضا نماز میں قراءت آہستہ یا بلند کرنے کے حوالے سے تفصیل
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2040
- Issued
- 16 ربیع الاول 1445ھ / 03 اکتوبر 2023ء
Question
اگر کسی شخص کی عشاء کی نماز قضا ہو جائے اور وہ ظہر کے وقت میں عشاء کی قضا نماز پڑھے تو اس صورت میں وہ عشاء کی قضا نماز میں جبر کے ساتھ قراءت کرے گا یا آہستہ؟ یونہی کسی شخص کی ظہر کی نماز قضا ہو جائے اور وہ عشاء کے وقت میں ظہر کی قضا نماز پڑھے تو وہ اس میں آہستہ قراءت کرے گا یا جبر کے ساتھ؟
Answer (beginning)
اولا یہ اصول سمجھ لیجیے کہ سری نمازوں میں مطلقاً آہستہ قراءت کرنا واجب ہے، چاہے امام ہو یا منفرہ یعنی تنہا پڑھنے والا، اور چاہے وہ سری نماز ادا پڑھی جائے یا قضا، اور اگرچہ اس کی قضا رات میں کی جائے، بہر صورت اس میں آہستہ ہی قراءت کی جائے گی۔ جبکہ جبری نمازوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر جبری نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جا رہی ہو تو چاہے وہ نماز ادا ہو یا قضا، امام پر اس نماز میں جبر یعنی بلند آواز سے قراءت کرنا واجب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.