Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازمیں دانتوں سے کھانے کے ذرات منہ میں آجائیں تو کیا کریں ؟
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
- Fatwa no.
- WAT-2022
- Issued
- 12 ربیع الاول 1445ھ / 29 ستمبر 2023ء
Question
کسی کے دانتوں میں انفیکشن ہو اور مسوڑھوں کی سرجری بھی ہوتی ہے، دو داڑھیوں نکلوائی ہیں، اس کی وجہ سے دانتوں میں غذا کے ذرات پھنس جاتے ہیں، وضو سے پہلے کافی نکال لیتے ہیں لیکن کچھ نہ کچھ رہ جاتے ہیں، ان کو نکالو، تو تکلیف ہوتی ہے اور جو گوشت دانتوں میں رہ گیا، وہ اگر نماز کے دوران نکال لیا جائے، تو نماز کا حکم بتادیں اور آیا جو ذرات اب منہ میں زبان پر آگئے، تو کیا انہیں باہر نکال دیا جائے یا سلام کے بعد باہر پھینکے جائیں اور وضو کے دوران جتنے نکل جائیں، اتنے نکالنے کافی ہیں یا چاہے جتنی بھی تکلیف ہو سارے ہی نکالے ہیں؟
Answer (beginning)
حکم شرعی یہ ہے کہ نماز کے دوران اگر کھانے کے ذرات وغیرہ، کوئی چیز دانتوں سے نکلے، تو اگر وہ چنے کی مقدار برابر ہو، تو اس کو نکلنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اگر اس سے کم ہو تو نماز مکروہ ہے، لہذا اگر دوران نماز دانتوں سے چیز نکل کر زبان پر آجائے، تو اسے عمل قلیل سے باہر ہی نکال دیا جائے کہ منہ کے اندر رہنے کی صورت میں اس کے حلق سے نیچے اترنے کا اندیشہ باقی رہے گا جو فساد نماز یا کم از کم کراہت نماز کا سبب بنے گا۔ یہ بھی یاد رہے! جہاں عمل قلیل کے ذریعے نکالنے میں ہاتھ کا استعمال ہو گا، تو ایک رکن میں ایک ہاتھ بضرورت دوبارہ استعمال کرنے کی اجازت ہے، تین مرتبہ اٹھانے سے نماز ٹوٹ جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.