Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تین طلاق کے بعد کیے جانے والے نکاح کی عدت کہاں گزارے؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-1993
Issued
28 صفر 1445ھ / 15 ستمبر 2023ء

Question

تین طلاق کی عدت کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح و حلالہ اور پھر اس سے طلاق کی عدت اس دوسرے شوہر ہی کے گھر میں گزاری ہوگی؟ یا اپنے میکے یا کسی اور جگہ بھی عدت گزار سکتی ہے؟

Answer (beginning)

پہلے یہ سمجھ لیں کہ شرعی طور پر حلالے کے بعد طلاق کی عدت کے احکام وہی ہیں، جو عام نکاح کے بعد طلاق کی عدت کے احکام ہیں، لہذا اپوچھی گئی صورت میں حلالے کے بعد طلاق کی عدت بھی دوسرے شوہر ہی کے گھر میں گزاری واجب ہے، جہاں وہ اس بیوی کو نکاح کے بعد رخصت کر کے لے گیا ہو اور حلالے کے بعد طلاق دی ہو اور شوہر پر بھی لازم ہے کہ اسے اپنے گھر ہی میں عدت گزارنے دے، لیکن اگر وہ اپنے گھر میں عدت گزارنے نہ دے، تو اس پر لازم ہو گا کہ عورت کو عدت گزارنے کے لیے کوئی دوسرا گھر لے کر دے، جس میں وہ اپنی عدت مکمل کرے اور اگر گھر کرانے پر لینا پڑے، تو عدت مکمل ہونے تک اس کا کرایہ بھی اسی دوسرے شوہر پر لازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.