Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محمد یمان نام رکھنا کیسا ؟

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-1989
Issued
27 صفر 1445ھ / 14 ستمبر 2023ء

Question

لڑکے کا نام ”محمد یمان“ رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

”محمد یمان“ نام رکھنا، جائز ہے۔ مرقاة المفاتیح میں ہے: ”یمان هو نسبته إلى اليمن، والألف فيه عوض عن ياء النسبة“ (مرقاة المفاتیح، جلد 09، صفحہ 4036، مطبوعہ دار الفکر) البتہ! یہ یاد رہے کہ بچہ ہو یا بیٹی، ان کے نام اچھوں کے نام پر رکھنا مستحب ہے کہ حدیث پاک میں اس کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ بچہ ہو تو سب سے بہتر ہے کہ اولاً اس کا نام محمد رکھا جائے تاکہ اس کی احادیث میں بیان کردہ فضیلتیں حاصل ہوں اور پھر پکارنے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیاء و صالحین علیہم الرحمٰن کے ناموں پر نام رکھیں۔ جیسے ابراہیم، اسماعیل، حسن، حسین وغیرہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.