Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کپاس کی فصل میں لکڑیوں پر بھی عشر ہوگا یا نہیں ؟

Answered by
مولانا ڈاکٹر حسین عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-1941
Issued
12 صفر 1445ھ / 30 اگست 2023ء

Question

ہم کپاس (روٹی) کی فصل لگاتے ہیں، جب فصل تیار ہو جاتی ہے تو اس میں سے کپاس نکال لیتے ہیں اور لکڑیاں باقی رہتی ہیں تو کیا ان لکڑیوں پر بھی عشرہ ہو گیا یا نہیں؟

Answer (beginning)

فصل سے جو چیز مقصود ہو اس پر عشرہ لازم ہوتا ہے، اس کے علاوہ جو چیزیں مقصود نہ ہوں ان پر عشرہ لازم نہیں ہوتا۔ کپاس کی فصل میں مقصود کپاس ہوتا ہے، اس کی لکڑیاں نہیں لہذا کپاس کی لکڑیوں پر عشرہ لازم نہیں۔ ہاں کپاس میں عشرہ لازم ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر فصل کو بارش یا نہری پانی سے سیراب کیا تو مکمل عشرہ یعنی دسواں حصہ لازم ہے اور اگر آلات مثلاً: ڈول پانی زمانہ ٹیوب ویل کے ذریعے پانی حاصل کر کے زمین کی آبپاشی کی تو نصف عشرہ یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہو گا اور اگر کچھ دن بارش کے پانی سے اور کچھ دن ٹیوب ویل وغیرہ سے سیراب کیا تو اگر اکثر دن بارش کے پانی سے سیراب کیا تو عشرہ لازم ہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.