Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اوجھڑی کے متعلق ایک روایت کی تحقیق
- Answered by
- مولانا محمد انیس رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-1933
- Issued
- 07 صفر 1445ھ / 25 اگست 2023ء
Question
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اوجھڑی پکڑ کے پیش کی، کیا یہ روایت درست ہے؟
Answer (beginning)
یہ ضعیف روایت ہے جس سے شرعی استدلال درست نہیں۔ چنانچہ مجمع الزوائد میں اس حدیث پاک کو نقل کر کے کہا گیا ”رواہ الطبرانی و فیہ ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن مجمع و بہو ضعیف“ ترجمہ: اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا اور اس میں ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن مجمع ضعیف ہے۔ (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، کتاب الاطعمة، باب ماجاء فی اللحم، جلد 5، صفحہ 44، دار الفکر، بیروت) ابراہیم بن اسماعیل کے ضعیف ہونے پر کلام کرتے ہوئے امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں ”ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع بن یزید وقیل بن زید بن مجمع الأنصاری أبو إسحاق المدنی روی عن الزہری وأبی الزبیر وعمر بن…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.