Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ میں قربانی ہے یانہیں ؟ اور حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے کیوں کی ؟

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری
Fatwa no.
WAT-1921
Issued
05 صفر 1445ھ / 23 اگست 2023ء

Question

ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ عمرہ میں قربانی نہیں کرتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عمرہ کے لیے قربانی ضروری نہیں ہے، جبکہ میں نے پڑھا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب عمرہ قضا ادا کیا تو اونٹوں کی قربانی کی، تو کیا عمرہ پر بھی قربانی کی جا سکتی ہے؟ اور عمرہ پر قربانی کرنا کیا ہے؟ مطلب سنت ہے یا کیا ہے؟

Answer (beginning)

عمرہ میں قربانی نہیں ہے، نہ سنت ہے اور نہ نبی واجب۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ سے روکے جانے کی صورت میں قربانی فرمائی، تو یہ شریعت مطہرہ کا ایک جداگانہ مسئلہ ہے، جسے احصاء کہا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ: "اگر کسی شخص نے حج یا عمرے کا احرام باندھ لیا، پھر وہ حج یا عمرہ نہ کر سکا، کسی دشمن وغیرہ نے روک دیا یا کسی بیماری وغیرہ کے سبب نہ کر سکا" تو اس کے لیے حکم شرعی یہ ہے کہ وہ حد و حرم میں ایک قربانی کرے یا کسی سے کروائے اور احرام سے باہر ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.