Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ابو محمد کنیت رکھنا کیسا ہے؟

Answered by
مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
Fatwa no.
WAT-1884
Issued
22 محرم الحرام 1445ھ / 10 اگست 2023ء

Question

ابو محمد کنیت رکھنا کیسا ہے؟

Answer (beginning)

ابو محمد کنیت رکھنا جائز ہے، شریعت مطہرہ میں اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اللہ عزوجل کے نبی حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کنیت ابو محمد ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 30، ص 194، رضا فاؤنڈیشن لاہور) اور متعدد صحابہ کرام و بزرگان دین کی کنیت ابو محمد ہے۔ چنانچہ صاحب صحیح مسلم، امام مسلم بن حجاج القشیری علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب: "الکنی والاسماء" کے باب ابو محمد، میں تقریباً پونے دو سو ان صحابہ و تابعین و بزرگان دین کے نام ذکر کیے ہیں، جن کی کنیت ابو محمد ہے، جن میں سے چند صحابہ کے نام یہ ہیں: ☆ حضرت طلحہ بن عبید اللہ ☆ حضرت عبد الرحمن بن عوف ☆ حضرت حسن بن علی ☆ حضرت جبیر بن مطعم ☆ حضرت عبد اللہ بن عمرو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.