Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عورت کا محرم کے بغیر عورتوں کے ساتھ فرض حج کے لئے جانا
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1693
- Issued
- 24 رمضان المبارک 1445ھ / 04 اپریل 2024ء
Question
اگر کسی عورت پر حج فرض ہو، لیکن اس کے کسی محرم پر فرض نہیں، تو کیا یہ عورت اپنے محلے کی قابل اعتماد عورتوں کے ساتھ حج پر جا سکتی ہے؟ جبکہ ان محلے والی عورتوں کے ساتھ ان کے محارم بھی جا رہے ہیں؟
Answer (beginning)
عورت پر حج فرض ہو اور ساتھ محرم جانے والا نہ ہو تو اس عورت کو یہ حکم نہیں کہ وہ کسی عورت کے ساتھ چلی جائے، اگر وہ یوں محرم یا شوہر کے بغیر محلے کی کسی عورتوں کے ساتھ حج کرنے جائے گی تو گناہ گار ہو گی، کیونکہ عورت کو حلال نہیں کہ وہ اس قدر سفر بغیر محرم یا شوہر کے کرے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخران تسافر سفراً يكون ثلاثة أيام فصاعداً إلا ومعها أبوها وابنها أو زوجها أو أخوها أو ذو محرم منها“ یعنی جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.