Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اعوان کے پاس شجرۂ نسب نہ ہو، تو وہ زکوۃ لے سکتا ہے یا نہیں ؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1692
Issued
23 رمضان المبارک 1445ھ / 03 اپریل 2024ء

Question

اگر کوئی شخص اعوان ہے، لیکن اس کے پاس اپنا شجرہ نسب نہیں، تو کیا ایسا شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے؟

Answer (beginning)

اعوان کا نسبی تعلق ہاشمی خاندان سے ہے اور جس شخص کا نسبی تعلق ہاشمی خاندان سے ہو، اس کو زکوٰۃ دینا یا اس کا زکوٰۃ لینا ہر گز جائز نہیں کہ ہاشمی ہونے کی وجہ سے یہ مصرف زکوٰۃ نہیں۔ لہذا اگر کوئی واقعہ اعوان ہے مگر اس کے پاس شجرہ نسب موجود نہیں، تو ایسا شخص بھی زکوٰۃ و فطرہ نہیں لے سکتا کہ شجرہ نسب کا نہ ہونا اس کو ہاشمی ہونے سے خارج نہیں کرے گا۔ فتاوی اہلسنت احکام زکوٰۃ میں سوال ہوا: ہمارا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بیٹے حضرت عون رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے، تو کیا ہمیں زکوٰۃ لینا حرام ہو گا؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.