Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچوں کے کپڑے بچیوں کو پہنانا
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1691
- Issued
- 19 رمضان المبارک 1445ھ / 30 مارچ 2024ء
Question
چھوٹی بچیوں کو لڑکوں کے کپڑے پہنانا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
ایسے کپڑے جو لڑکوں کے ساتھ خاص ہیں وہ کپڑے بچیوں کو پہنانا جائز نہیں اور اس صورت میں پہنانے والا گناہ گار ہو گا، البتہ بہت زیادہ چھوٹے بچوں کے بعض کپڑے جو دونوں کو پہنائے جاسکتے ہوں اور اس میں کوئی خاص علامت نہ ہو جس سے وہ لباس لڑکوں کے ساتھ خاص ہو تا ہو، تو ایسے کپڑے بچیوں کو پہنانے میں حرج نہیں۔ در مختار میں ہے: ”(کره الباس الصبی ذھبا و حریرا) فان ما حرم لبسه و شربه حرم الباسه و اشرابه“ یعنی لڑکے کو سونا اور ریشم پہنانا مکروہ ہے، کیونکہ جس کا پہننا اور پینا حرام ہے، اس کا پہنانا اور پلانا بھی حرام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.