Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ کی رقم سے اسکول میں پانی کا کولر یا پودے لگوانا
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1690
- Issued
- 22 رمضان المبارک 1446ھ / 02 اپریل 2024ء
Question
کیا زکوٰۃ کے پیسوں سے سرکاری اسکول کے اندر ٹھنڈے پانی کا کولر اور پودے لگوا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
زکوٰۃ کی رقم سے سرکاری یا غیر سرکاری سکول وغیرہ میں کولر، پودے وغیرہ لگوانا جائز نہیں ہے، نہ ہی اس طرح کرنے سے زکوٰۃ ادا ہوگی، کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کی رقم یا کسی اور چیز کا مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا دینا ضروری ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: ”زکوٰۃ کا رکن تملک فقیر (یعنی فقیر کو مالک بنانا) ہے۔ جس کام میں فقیر کی تملک نہ ہو، کیسا ہی کارِ حسن ہو جیسے تقمیر مسجد یا تخمین میت یا تنخواہ مدرسانِ علم دین، اس سے زکوٰۃ نہیں ادا ہو سکتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.