Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مزار پر ختمِ قرآن کی منت ماننا
- Answered by
- مولانا محمد ماجد رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1689
- Issued
- 16 شوال المکرم 1446ھ / 24 اپریل 2024ء
Question
زید نے یہ نذر مانی اگر میرا افلاں کام ہوا، تو داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جا کر ختم قرآن کروں گا، اب وہ کام ہو گیا، تو کیا زید کو داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جا کر قرآن کا ختم کرنا ہو گا یا کہیں بھی مکمل قرآن پاک پڑھ کر ان کو ایصالِ ثواب کر دے؟
Answer (beginning)
تلاوت قرآن کی منت، منتِ شرعی نہیں ہے لہذا اسے پورا کرنا لازم نہیں البتہ قرآن پاک پڑھنے کے بے شمار فضائل احادیثِ مبارکہ میں موجود ہیں لہذا اس منت کو پورا کیا جائے اور یہ ختم قرآن کہیں بھی کیا جا سکتا ہے خاص داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر جا کر ختم قرآن کرنا ضروری نہیں۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں تلاوتِ قرآن کی منت کے حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: ”وضو و غسل و تلاوتِ قرآن و سجدہ تلاوت و اتباعِ جنازہ وغیرہ کہ یہ چیزیں نذر و تعلیق سے لازم نہیں ہو جائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.