Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس تخت یا پلنگ پر میت رکھی، اسے گھر میں رکھنا

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1680
Issued
20 شوال المکرم 1445ھ / 29 اپریل 2024ء

Question

بعض لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ گھر میں کسی کے انتقال کے بعد میت کو جس تخت یا پلنگ پر رکھا جاتا ہے اسے گھر میں نہیں رکھنا چاہیے ورنہ میت کی روح اس پر آکر سوتی ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟

Answer (beginning)

جس چار پانی، پلنگ، تخت وغیرہ پر میت رکھی جائے یا جس چار پانی، پلنگ یا بستر پر میت کا انتقال ہوا ہو، وہ چار پانی وغیرہ گھر میں رکھی جاسکتی ہے اور اسے استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کو اس نیت سے گھر سے نکالنا یا کھڑا رکھنا کہ میت کی روح آکر اس پر سوتی ہے، بے اصل ہے۔ دراصل دینی احکام سے ناواقفیت اور جہالت کی بنا پر ہی اس طرح کی بے ثبوت باتیں عوام میں گردش کرتی ہیں، لہذا ایسی باتوں کی طرف ہرگز دھیان نہ دیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.