Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زندگی میں نماز کا فدیہ دینا
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1679
- Issued
- 20 شوال المکرم 1445ھ / 29 اپریل 2024ء
Question
اگر ہمارے والدین نماز میں تلفظ صحیح ادا نہیں کرتے ہیں اور سیکھنے کیلئے بھی راضی نہیں ہوتے تو کیا ان کی حیات میں ہی ان کی نمازوں کا فدیہ ادا کر سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
اگر ان کے تلفظ درست نہیں ہے جس سے نماز ادا ہو سکے، تو احسن انداز سے تلفظ درست کرنے کے لئے انہیں کسی طرح آمادہ کریں اور ان کے تلفظ درست کروانے کی کوشش جاری رکھیں۔ ان کی حیات میں ان کی نمازوں کا فدیہ نہ یہ خود دے سکتے ہیں اور نہ ان کی طرف سے کوئی اور دے سکتا ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”نماز خالص عبادت بدنی ہے، اس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہیں پڑھ سکتا نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زندگی میں نماز کے بدلے کچھ مال بطور فدیہ ادا کر دے البتہ اگر کسی پر کچھ نمازیں رہ گئی ہیں اور انتقال کر گیا اور وصیت کر گیا کہ اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو ادا کیا جائے اور امید ہے کہ انشاء اللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.