Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عنائزہ نام رکھنا کیسا ؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1652
- Issued
- 29 شوال المکرم 1445ھ / 08 مئی 2024ء
Question
ہم اپنی بیٹی کا نام عنائزہ رکھنا چاہتے ہیں، اس نام کے معنی کیا ہیں اور کیا یہ نام رکھ سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
”عَنَائِز“، ”عَنِيزَ“ (عین پر زبر کے ساتھ) کی جمع ہے جس کا معنی ہے: ”مصیبت میں مبتلا عورتیں“ یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے، اس کی بجائے ازواج مطہرات یا صحابیات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے تاکہ نام کے ساتھ نسبت کی برکتیں بھی ملے۔ المنجد میں ہے: ”العَنِيز“: مصیبت میں مبتلا (المنجد (عربی اردو)، صفحہ 589، مطبوعہ، لاہور) بابرکت ناموں کی تفصیل سے متعلق مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ کا مطالعہ فرمائیں۔ درج ذیل لنک پر کلک کر کے یہ رسالہ ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.