Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تہجد کی نماز میں تہجد کیساتھ تحیۃ الوضو کی نیت کرنا

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1639
Issued
14 ذوالقعدہ الحرام 1445ھ / 23 مئی 2024ء

Question

تہجد کی نیت کے ساتھ تحية الوضو کی نیت بھی جمع کر سکتے ہیں؟ نیز اواین کی نماز میں کتنی نیتیں کی جا سکتی ہیں صلوة الحاجات و صلوة التوبہ وغیرہ؟

Answer (beginning)

وضو کے بعد اعضاء خشک ہونے سے پہلے دور کعت نماز پڑھنا مستحب ہے، اسی کو تحية الوضو کہتے ہیں، وضو کے بعد فرض یا کوئی اور نماز پڑھی تو یہی نماز تحية الوضو کے قائم مقام ہو جاتی ہے، لہذا اعضاء خشک ہونے سے پہلے آپ نے تہجد کی نماز ادا کی تو یہ تحية الوضو کے قائم مقام ہو جائے گی، نیت کی حاجت نہیں، لیکن اگر وضو کے کافی دیر بعد تہجد ادا کی تو یہ تحية الوضو کا موقع ہی نہیں، اس میں نیت نہیں ہو سکتی۔ نیز ایک لفظ میں حسب موقع مختلف نوافل کی نیتیں ہو سکتی ہیں، لہذا اواین میں صلوة الحاجات، صلوة التوبہ کی نیت ہو سکتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.