Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے منع کیا ؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعظاری مدنی
Fatwa no.
Web-1604
Issued
16 رمضان المبارک 1445ھ / 27 مارچ 2024ء

Question

کیا اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضاخان بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ کا کوئی فتویٰ موجود ہے کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال درس و تدریس، وعظ و تقریر یا نماز کے لئے منع ہے؟

Answer (beginning)

لاؤڈ اسپیکر پر نماز یا درس و بیان سے متعلق امام اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی فتویٰ موجود نہیں ہے، تاہم فی زمانہ کثیر مستعد علماء کرام کا موقف یہی ہے کہ اسپیکر پر نماز پڑھانے سے نماز ہو جائے گی اور دار الافتاء اہلسنت کا بھی یہی موقف ہے۔ البتہ اگر اسپیکر کی حاجت نہ ہو، تو اختلاف علماء سے بچنے کے لیے حتی الامکان اسپیکر استعمال نہ کرنا بہتر ہے، لیکن اس صورت میں اسپیکر استعمال کر لیا، تو بھی نماز ہو جائے گی، تاہم اس بات کا دھیان رہے کہ مائک / لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال نہ کیا جائے جب نمازی زیادہ ہوں اور آواز سب تک نہ پہنچتی ہو جب استعمال کیا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.