Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام کا مغرب میں قعدہ اولیٰ نہ کرنا پھر لقمہ ملنے پر واپس بیٹھنا
- Answered by
- مولانا رضا محمد مدنی
- Fatwa no.
- Web-1599
- Issued
- 10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024ء
Question
امام صاحب مغرب کے تین فرض پڑھ رہے تھے، دور کعتوں کے بعد قعدہ اولیٰ میں بیٹھنا واجب ہے لیکن وہ نہ بیٹھے اور تیسری رکعت کے لیے بالکل سیدھے کھڑے ہو گئے اس کے بعد مقتدی نے لقمه دیا تو امام صاحب سیدھا کھڑا ہونے کے بعد واپس بیٹھ گئے اور تشہد پڑھی، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ اس نماز کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
پڑھی گئی صورت میں مقتدی کا لقمه دینا بے محل تھا کیونکہ امام صاحب جب سیدھے کھڑے ہو گئے تو سجدہ سہولازم ہو گیا، اب واپس لوٹنا جائز نہیں تھا۔ امام صاحب نے بے موقع کا لقمه قبول کیا تو امام صاحب کی نماز ٹوٹ گئی اور اس کے نتیجے میں پیچھے کھڑے تمام مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہو گئی۔ اس جماعت میں جو جو حاضر تھے سب لوگ بشمول امام صاحب اس دن کی مغرب قضا کی نیت سے پڑھیں۔ ایسے کام جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس کا سیکھنا ہر بالغ مسلمان مرد، عورت پر فرض ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.