Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام مہین یا رہنما رکھنا
- Answered by
- مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- WAT-2744
- Issued
- 19 ذیقعدہ الحرام 1445ھ / 28 مئی 2024ء
Question
ہم نے اپنی بچی کا نام رکھنا ہے، ہم نے نام میں مہین اور رہنما پسند کیا ہے، تو یہ نام صحابیات کے ہیں یا نہیں؟ اور کیا ہم یہ نام رکھ سکتے ہیں؟ اگر صحیح نہیں، تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ تھوڑے نام کی لسٹ بھیج دیں۔
Answer (beginning)
صحابیات میں سے کسی کا نام مہین یا رہنما ہونا معلوم نہیں۔ مہین کا معنی ہے: حقیر، کمزور، کم سمجھ۔ یہ معنی مناسب نہیں، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے، اور رہنما کا معنی ہے: ٹھیک راستہ بنانے والا، رہبر۔ معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی۔ المتحد میں ہے: المھین: حقیر، کمزور، کم سمجھ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.