Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرہ پر جانے سے پہلے عقیقہ کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1495
- Issued
- 17 شعبان اعظم 1445ھ / 28 فروری 2024ء
Question
ایک گاؤں میں عمرے پر جانے سے پہلے، گیارہ لوگ جن میں تین عورتیں اور آٹھ مرد ہیں، وہ سب مل کر ایک ببل سے عقیقہ کرنا چاہ رہے ہیں، ایک ہی جگہ کھلانا چاہ رہے ہیں، کیا ان کا عقیقہ کرنا ضروری ہے اور بعض عمرے پر جانے والے عقیقہ نہیں کر رہے، کیا وہ بغیر عقیقہ کئے عمرہ پر جا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
عمرے پر جانے سے پہلے عقیقہ کرنا شرعاً لازم و ضروری نہیں ہے، عقیقہ کئے بغیر بھی عمرے پر جایا جاسکتا ہے۔ نیز ببل اور دیگر قربانی کے بڑے جانوروں میں زیادہ سے زیادہ سات افراد کی طرف سے عقیقہ کیا جاسکتا ہے، گیارہ افراد کے عقیقہ کے لئے اگر ایک ہی ببل ذبح کیا، تو کسی کا عقیقہ کرنا شمار نہ ہو گا۔ عقیقہ سے متعلق مزید تفصیلی معلومات جاننے کیلئے مکتبہ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ بنام ”عقیقہ کے بارے میں سوال و جواب“ کا مطالعہ فرمائیں، درج ذیل لنک پر کلک کر کے یہ رسالہ ڈانلوڈ کیا جاسکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.