Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لڑکے کا نام ”عقبان“ رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1491
- Issued
- 10 شعبان / 1445ھ / 21 فروری 2024ء
Question
لڑکے کا نام عقبان رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer (beginning)
عقبان لفظ "ع" پر پیش کے ساتھ ہو، تو اس کا معنی ہے "آخر کل شیء یعنی ہر چیز کا آخر" اور عقبان "ع" کے نیچے زیر کے ساتھ عقاب (ایک پرندہ) کی جمع ہے۔ اس لحاظ سے یہ نام رکھنا جائز ہے، لیکن بہتر ہے کہ انبیاء کرام، صحابہ کرام اور اولیاء کرام کے ناموں پر نام رکھیں کہ ان کی برکتیں حاصل ہوں۔ ناموں کی معلومات کے لئے مکتبہ المدینہ کی کتاب "نام رکھنے کے احکام" کا مطالعہ فرمائیں۔ یہ کتاب دعوت اسلامی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.