Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی حالت میں عورت نے اپنی شرمگاہ کو چھوا لیکن انزال نہ ہوا
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1571
- Issued
- 06 رمضان المبارک 1445ھ / 17 مارچ 2024ء
Question
اگر کوئی عورت رمضان المبارک کے مہینے میں روزے کی حالت میں گناہ کا ارتکاب کرتی ہے، اس نے روزے کی حالت میں اپنی انگلی سے شرمگاہ کو چھونا شروع کیا، پھر رک گئی، اس بات کا یقین نہیں ہے کہ انزال ہوا، البتہ غالب گمان یہ ہے کہ انزال نہیں ہوا تھا، اس نے اپنے اس عمل دل سے ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ پاک کے حضور توبہ کی اور روزہ بھی قضا کر لیا، اس صورت میں کفارے کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
ہاتھ یا انگلی وغیرہ سے ناجائز طور پر حصول لذت گناہ ہے اور روزے کی حالت میں ایسا کرنا اور زیادہ سخت گناہ ہے، لہذا مذکورہ عمل سے بھی توبہ اور آئندہ کے لئے ایسا کرنے سے بچنا لازم ہے، نیز پوچھی گئی صورت کے مطابق جبکہ انزال ہو جانا یاد نہیں ہے نیز غالب گمان بھی یہی ہے کہ انزال نہیں ہوا تھا، تو نہ قضا لازم اور نہ کفارہ لیکن اگر یقینی طور پر انزال کا ہونا معلوم ہو، تو اس روزے کی قضا کا حکم ہو گا، کفارہ لازم نہ ہو گا۔ ہاں! اگر معصیت (یعنی روزہ توڑنے) کی نیت سے ایک مرتبہ سے زیادہ کیا، تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”استمنى بكفه أو بمباشرة فاحشة... (فأنزل)...
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.