Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نفاس کا خون آٹھویں دن بند ہونے کی صورت میں نماز و ازدواجی تعلقات کا حکم

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1562
Issued
08 رمضان المبارک 1445ھ / 19 مارچ 2024ء

Question

بچہ کی پیدائش کے بعد آٹھویں دن خون آنا بند ہو گیا، تو نماز، روزہ اور شوہر کے ازدواجی حقوق کی ادائیگی کے متعلق کیا احکامات ہوں گے؟

Answer (beginning)

بچہ پیدا ہونے کے بعد جو خون آتا ہے اسے نفاس کہتے ہیں۔ اگر کسی عورت کو بچہ پیدا ہونے پر خون بالکل نہ آیا تب بھی صحیح یہ ہے کہ اس عورت پر غسل واجب ہے اور نماز و روزہ بھی لازم ہیں اور خون آنے کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے یعنی اگر چالیس دن کے بعد بھی بند نہ ہو تو مرض ہے۔ جس عورت کو ایسا معاملہ پیش آئے وہ چالیس دن پورے ہوتے ہی غسل کر کے نماز و روزہ شروع کر دے۔ اگر چالیس دن سے پہلے بند ہو جائے خواہ ولادت کے بعد ایک منٹ ہی میں بند ہو جائے، بہر حال جس وقت بند ہو غسل کر لے اور نماز و روزہ شروع کر دے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.