Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آسٹریلیا میں جو اسٹوڈنٹ رہتے ہیں، ان کا صدقہ فطر والد پاکستان میں ادا کرے، تو حکم
- Answered by
- مولانا رضا محمد مدنی
- Fatwa no.
- Web-1560
- Issued
- 10 رمضان المبارک 1445ھ / 21 مارچ 2024ء
Question
صدقہ فطر کی مقدار کے حوالے سے پوچھنا ہے کہ یہاں آسٹریلیا میں جو اسٹوڈنٹس پڑھائی کے لئے آتے ہیں وہ یہاں جاب بھی کرتے ہیں۔ کیا وہ اپنی صدقہ فطر کی رقم یہاں نکالیں گے یا اگر اپنے وطن میں ان کے والد ان کی رقم نکال دیتے ہیں تو اس صورت میں ان کا صدقہ فطر ادا ہو جائے گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
جواب سے پہلے یہ مسئلہ ذہن نشین کر لیں کہ بالغ اولاد (لڑکا ہو یا لڑکی) کے صدقہ فطر کی ادائیگی والد پر لازم نہیں۔ اگر یہ لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں تو ان پر خود اپنا صدقہ فطر نکالنا واجب ہو گا البتہ اگر والد اپنی بالغ اولاد کا صدقہ فطر اپنی طرف سے ادا کر دیتا ہے تو اس صورت میں بالغ اولاد کا فطرہ ادا ہو جائے گا۔ اس حکم کے بعد ایک اصول یاد رکھیں کہ صدقہ فطر کی ادائیگی میں اس شخص کی جگہ کا اعتبار ہے، جس پر صدقہ فطر ادا کرنا لازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.