Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بس ڈرائیور مسجدِ عائشہ یا مسجدِ جعرانہ سے واپس مکہ آئیں، تو احرام کا حکم

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1529
Issued
27 شعبان / 1445ھ / 09 مارچ 2024ء

Question

زیارت کروانے والے یا بس ڈرائیور جو عمرہ کرنے والوں کو مسجدِ حرام سے مسجدِ عائشہ یا مسجدِ جعرانہ لے کر جاتے ہیں، کیا مکہ مکرمہ واپس آنے پر ان کے لئے بھی احرام باندھنا ضروری ہے؟

Answer (beginning)

پونچی گئی صورت کے مطابق زیارت کروانے والے نیز ڈرائیور حضرات مسجدِ عائشہ اور مسجدِ جعرانہ سے واپسی پر بغیر احرام حرم شریف آسکتے ہیں جبکہ ان کی عمرہ کی نیت نہ ہو۔ ہاں! اگر ان کی بھی عمرہ کی نیت ہو تو بغیر احرام نہیں آسکتے۔ لیکن طائف یا مدینہ شریف کا یہ معاملہ نہیں ہے کیونکہ طائف اور مدینہ شریف آفاقی میقات سے باہر ہیں لہذا ان سے واپسی پر براہ راست زیارت کروانے والے نیز ڈرائیور حضرات بھی مکہ مکرمہ بغیر احرام بہر حال نہیں آسکتے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.