Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چپل جوڑنے والا کیمیکل ہاتھوں پر لگا رہ جائے، تو وضو اور نماز کا حکم

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1527
Issued
05 رمضان المبارک 1445ھ / 16 مارچ 2024ء

Question

ایک کیمیکل ہے cementex، جو کہ چپلوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، ہمارے گھر کے بعض افراد چپلین وغیرہ بنانے کا کام کرتے ہیں، ان کا یہی پیشہ ہے۔ سوال یہ تھا کہ نماز کے اوقات میں اچھی طرح ہاتھ صاف کر لیتے ہیں جہاں کیمیکل لگا ہوتا ہے، اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ کیمیکل اسکن (skin) پر بالکل ایسے لگ جاتا ہے کہ پتا نہیں چلتا اور کافی دیر بعد تھوڑی بہت مقدار جو اسکن پر رہ گئی ہوتی ہے وہ ابھرتی ہے، اب اس حالت میں جو نماز پڑھ لی اس کا کیا حکم ہو گا؟ جبکہ وضو سے پہلے اچھی طرح دیکھ بھال کر بٹالیا، پھر بھی کچھ معمولی مقدار رہ جاتی ہے۔

Answer (beginning)

بیان کردہ صورت میں یہ کیمیکل جسم پر لگا ہونے کی صورت میں پڑھی گئی نماز درست ہو جائے گی تاہم جب لگے رہنے کا علم ہو جائے، تو اس کو زائل کر کے جسم کے اس حصہ پر پانی بہانا ضروری ہو گا، اگر علم کے بعد اس کو زائل کر کے جسم کے اس حصہ پر پانی نہیں بہایا، تو آئندہ نمازیں ادا نہیں ہوں گی۔ تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کر کے ہمارا تفصیلی فتویٰ ملاحظہ فرمائیں: https://www.daruliftaahlesunnat.net/ur/ghusal-ke-baad-jisam-par-mail-baqi-reh- jae-tu-kya-hukum-hai وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ## *Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.