Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو تولہ سونا ہے اور ماہانہ آمدن ہزار روپے، زکوۃ کا کیا حکم ہے ؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعظاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1546
- Issued
- 05 رمضان المبارک 1445ھ / 16 مارچ 2024ء
Question
میرا سوال یہ ہے اگر ایک اسلامی بہن کے پاس صرف دو تولہ سونائے، ماہانہ آمدنی صرف ہزار روپے ہے، تو کیا زکوٰۃ ادا کرنا ان پر فرض ہے؟
Answer (beginning)
سونے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے کہ جب ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو، لہذا اگر ان اسلامی بہن کے پاس فقط دو تولہ سونائی ہے اس کے علاوہ کوئی مال زکوٰۃ (چاندی، نقدی، پرائز، بانڈ وغیرہ) نہیں ہے تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ ہاں! اگر ان کی ملکیت میں کوئی اور مال زکوٰۃ (چاندی، نقدی، کرنسی، مال تجارت وغیرہ) حاجت اصلی سے زائد ہے اور یہ اس سونے کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ رہی ہے یا اس سے زیادہ بنتی ہے تو (دیگر شرائط کی موجودگی میں) سال گزرنے پر ان اسلامی بہن پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.