Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سخی کا کھانا دوا اور بخیل کا کھانا بیماری ہے

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1486
Issued
21 رمضان المبارک 1445ھ / 01 اپریل 2024ء

Question

ایک حدیث پاک سنی تھی کہ سخی کا کھانا دوا ہے اور بخیل کا کھانا بیماری ہے، اس کی کیا تشریح ہے؟

Answer (beginning)

شارحین حدیث نے مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں فرمایا ہے کہ سخی چونکہ مہمانوں کو فراخ دلی اور خوش دلی سے کھلاتا پلاتا ہے، اس کا کھانا دوا ہے، جبکہ بخیل مہمانوں کو کھلاتا بھی ہے تو تنگ دل و کبیدہ خاطر ہو کر کھلاتا ہے، اسی وجہ سے بعض بزرگوں نے فرمایا کہ بخیل کا کھانا دل کو تاریکی میں ڈال دیتا ہے، اس لئے بخیل کی دعوت قبول نہ کی جائے، سخی کی دعوت قبول کی جائے۔ علامہ عبد الرؤف مناوی رحمتہ اللہ علیہ فیض القدیر میں فرماتے ہیں: ”(طعام السخی دواء) فی روایۃ شفاء (وطعام الشحیح داء) و فی روایۃ طعام البخیل داء و طعام الجواد شفاء لكونه يطعم الضيف مع ثقل وتضجر وعدم طيب نفس ولهذا قال الخواص: إنه يظلم القلب فينبغي…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.