Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قطرہ نکلنے کا وہم ہوا، پھر پاکی حاصل کئے بغیر نماز پڑھ لی، تو حکم

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعظاری مدنی
Fatwa no.
Web-1483
Issued
17 شعبان / 1445ھ / 28 فروری 2024ء

Question

قطرہ نکلنے کا اکثر وہم ہوتا ہے، فجر پڑھ کر لیٹی، تو ایسا محسوس ہوا کہ قطرہ نکل گیا ہے، لیکن دیکھا نہیں اور یہ سوچا کہ جب ظہر کی نماز پڑھوں گی، اس سے پہلے دھولوں گی، لیکن ظہر پڑھنے سے پہلے دھونا بھول گئی اور وضو غیرہ کر کے نماز پڑھ لی، تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

اگر قطرہ کا یقینی طور پر معلوم نہیں ہے مثلاً: گیلا ہونا یا نشان دیکھنا وغیرہ، تو صرف قطرہ کے وہم سے نہ وضو ٹوٹتا ہے اور نہ ہی وسوسہ کی وجہ سے کپڑوں کے ناپاک ہونے کا حکم دیا جائے گا۔ ہاں اگر واقعی پیشاب کا قطرہ نکلا تھا جس سے کپڑے ناپاک ہوئے تو دیکھا جائے گا اگر ایک درہم سے کم نجاست گلی تو معاف تھی اور ایک درہم کے برابر تھی تو ایسی نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے اور اگر ایک درہم سے زیادہ تھی تو نماز ادا ہی نہ ہوئی دوبارہ نماز کی قضا کرنا ضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.