Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گناہ نہ کرنے کا اللہ پاک اور کسی شخص سے وعدہ کیا اور پھر وہ کام کرلیا تو

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1467
Issued
25 رجب المرجب 1445ھ / 06 فروری 2024ء

Question

کسی گناہ کو مستقبل میں نہ کرنے کا اللہ سے وعدہ کیا، پھر اسی گناہ پر کسی شخص سے وعدہ کیا کہ میں وعدہ کرتا ہوں اس کام سے بچتا رہوں گا اور معاذ اللہ وہ کام کر لیا، تو اب دو وعدوں کا کفارہ ہو گا یا ایک ہی کا؟

Answer (beginning)

اگر وعدہ ہی تھا، کوئی قسم یا منت وغیرہ نہیں تھی تو کفارہ لازم نہیں ہو گا، لیکن یہ شخص سخت گنہگار ہوا کہ ایک تو یہ کام ہی گناہ تھا اور دوسرا یہ اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی بھی ہوئی اور بلا شبہ اللہ عزوجل سے وعدہ کر کے پھر جانا بھی بہت سخت ہے اور اس پر شدید و عیب آئی ہے، نیز دوسری بار بندے سے جو وعدہ کیا تھا اس کی پاسداری بھی لازم تھی، لہذا مذکورہ شخص کو چاہیے کہ وہ سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ تمام گناہوں سے اور بالخصوص اس گناہ سے بچتا رہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.