Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اشراق اور چاشت کی نماز کا وقت اور طریقہ

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1453
Issued
15 رجب المرجب 1445ھ / 27 جنوری 2024ء

Question

اشراق و چاشت کی نمازیں کس وقت پڑھی جائیں گی اور ان کے پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟ نیز جس کے ذمہ قضا نمازیں ہوں، وہ یہ نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

اشراق و چاشت کا وقت سورج طلوع ہونے کے میں منٹ بعد سے شروع ہوتا ہے اور شحہ کبریٰ یعنی نصف النہار شرعی (جسے عوام زوال کا وقت کہتے ہیں، اس وقت کے شروع ہونے) تک رہتا ہے۔ لہذا اس وقت میں دور کعت اشراق کے نوافل ادا کریں اور اس کے بعد دور کعت چاشت کی نیت سے نوافل پڑھیں۔ اشراق و چاشت کے یہ نوافل عام یعنی دیگر نوافل کی طرح ہی ادا کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ قضا نمازیں ذمہ پر لازم ہوتے ہوئے اشراق و چاشت کی نمازیں ادا کرنا اگرچہ جائز ہے کیونکہ ان کے فضائل باقاعدہ احادیث میں بیان ہوئے ہیں اور جس کے ذمہ قضا نمازیں باقی ہوں، وہ مخصوص نوافل ادا کر سکتا ہے مگر بہتر ہے کہ جلد سے جلد قضا نمازیں ادا کر لی جائیں کہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.