Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض واپس نہ کرنے کی قسم کھائی پھر واپس کردیا تو حکم
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1417
- Issued
- 05 رجب المرجب 1445ھ / 17 جنوری 2024ء
Question
مجھ پر کسی شخص کی کچھ رقم قرض ہے، اگر میں اس سے کہتا ہوں کہ قرآن کی قسم میں تیری رقم واپس نہیں دوں گا یا قسم کے الفاظ کہے بغیر صرف قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں تیری رقم نہیں دوں گا اور بعد میں وہ رقم دے دوں تو کیا قسم ٹوٹ جائے گی اور اس کا کیا کفارہ ہو گا؟
Answer (beginning)
قرآن کی قسم کے الفاظ استعمال کئے تو اس سے قسم منعقد ہو گئی، اس صورت میں قسم توڑنے پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا، بلکہ اگر واقعی وہ پیسے اسی شخص کے تھے، جس کو نہ دینے کی قسم کھائی تھی تو اس صورت میں قسم توڑ کر اسے پیسے واپس کرنا لازم ہیں، اور قسم کا کفارہ بھی ادا کرنا ضروری ہے۔ البتہ فقط قرآن پر ہاتھ رکھ کر یہ کہنا کہ میں تیرے پیسے ادا نہیں کروں گا تو اس سے قسم منعقد نہیں ہوتی، لیکن کسی کے پیسے ناجائز دبالینا اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر واپسی نہ کرنے کا کہنا، یہ معاملہ بھی بہت سخت ہے، اس سے بھی توبہ کر کے پیسے جلد واپس کئے جائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.