Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موٹر سائیکل نقد میں سستی خرید کرقسطوں پر مہنگی بیچنا

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعظاری مدنی
Fatwa no.
Web-1408
Issued
14 رجب المرجب 1445ھ / 26 جنوری 2024ء

Question

جو چیز ہم قسطوں میں لیتے ہیں، تو ہمیں وہ مہنگی ملتی ہے، اکثر اوقات ذیل قیمت میں ہمیں ملتی ہے، قسطوں کی صورت میں وہ جو اوپر رقم ہوگی اس کا شرعی حکم کیا ہو گا؟ نیز ہم نے ایک موٹر سائیکل نقد خریدی ساٹھ ہزار کی، اب ہم نے وہ قسطوں میں ایک لاکھ کی آگے بیچ دی، تو اس کا شرعی حکم کیا ہو گا؟

Answer (beginning)

اولاً تو یہ یاد رہے کہ ہر شخص کو اپنی چیز کم یا زیادہ ریٹ میں فروخت کرنے کا مکمل اختیار ہے، شریعت میں اس کی کوئی ممانعت نہیں، بشرطیکہ سود ابا بھی رضامندی سے ہو اور اس میں کوئی خلافِ شرع بات نہ پائی جائے۔ لہذا نقد میں سستی خرید کر اپنے قبضے میں لے کر آگے قسطوں پر مہنگی بیچنا، جائز ہے۔ عموماً چیز نقد میں سستی اور ادھار میں مہنگی ہی نیچی جاتی ہے کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں، نیز قسطوں پر کوئی چیز فروخت کرنا یہ بھی دراصل ادھار بیچ ہی کی ایک قسم ہے جس میں قیمت یکمست لینے کے بجائے قسطوں میں وصول کی جاتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.