Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے دوران پیشاب کے قطرے نکلتے ہوئے محسوس ہونا

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1343
Issued
29 جمادی الثانی 1445ھ / 12 جنوری 2024ء

Question

پیشاب کے بعد اکثر اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرے پیشاب کا قطرہ نکلنے والا ہے اور کچھ لمحوں کے بعد جب میں دیکھتا ہوں تو بالکل چھوٹا سا تنکے کے برابر قطرہ نکلا ہوتا ہے، اگر وضو کر کے ایسا محسوس ہو اور دیکھوں تو تنکے کے برابر قطرہ نکلا ہو تو کیا وضو دوبارہ کرنا ہو گا؟ بعض اوقات نماز کے دوران بھی اس طرح کا معاملہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

سوال میں بیان کی گئی کیفیت حقیقی ہے تو آپ پر لازم ہے کہ استخاکر نے کے بعد استبراکریں یعنی کوئی بھی ایسا عمل کریں جس سے رکے ہوئے قطرے نکل آئیں مثلاً چلنا، کھکارنا، الٹے یا سیدھے پاؤں پر زور دینا وغیرہ۔ جب یقین ہو جائے کہ رکے ہوئے قطرے نکل چکے ہیں، اس کے بعد وضو کریں کہ یہ شرعاً واجب ہے۔ سوال میں بیان کی گئی صورت میں وضو کرنے کے بعد اگر واقعی قطرہ نکلا ہو اگرچہ تنکے کے برابر ہو، تو وضو توڑ دے گا اور نماز میں اس طرح ہوا، خواہ اپنی نماز پڑھ رہے ہوں یا جماعت سے، تو سلام پھیر کر نماز کو ختم کر دیں اور دوبارہ وضو کر کے پاکی کی حالت میں نئے سرے سے نماز ادا کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.