Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
یتیم کسے کہتے ہیں اور یتیم سے متعلق چند احادیث
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1275
- Issued
- 09 جمادی الثانی 1445ھ / 23 دسمبر 2023ء
Question
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یتیم کے بارے میں کیا تعلیمات دی ہیں، کیا اس طرح کی بات ہے کہ یتیم پر ظلم نہ کرو، دکھ نہ دو۔ اس کے متعلق رہنمائی فرما دیجئے؟
Answer (beginning)
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ یتیم کسے کہتے ہیں اور کتنی عمر تک بچہ یا بیٹی یتیم رہتے ہیں۔ وہ نا بالغ بچہ یا بیٹی جس کا باپ فوت ہو گیا ہو وہ یتیم ہے۔ بچہ یا بیٹی اس وقت تک یتیم رہتے ہیں جب تک بالغ نہ ہوں، جوں ہی بالغ ہوئے یتیم نہ رہے۔ یتیم بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہی حسن سلوک کرنا چاہیے، کسی پر بھی ظلم کرنا، اسے بلا اجازت شرعی تکلیف پہنچانا حرام ہے۔ ہاں یتیم چونکہ قابل رحم ہوتا ہے اس لیے اس پر ظلم کرنا مزید برا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.