Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جو قراءت میں ”ح“ کی بجائے ”ھ“ پڑھتا ہو
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1291
- Issued
- 06 رجب المرجب 1445ھ / 18 جنوری 2024ء
Question
اگر کوئی امام قراءت کرتے ہوئے ”ح“ کی بجائے ”ھ“ پڑھے جیسے سورة الفاتحة میں ”الحمد“ کے بجائے ”الھمد“ پڑھے، تو کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جائے گی؟
Answer (beginning)
جو امام قراءت میں ”ح“ کی بجائے ”ھ“ پڑھتا ہو، اس کے پیچھے نماز نہیں ہوگی کہ کئی جگہ پر معنی کا فساد لازم آئے گا۔ امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ سے سوال ہوا: ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جسے لوگوں نے مسجد جامع کا امام معین کیا جمعہ و جماعت میں گروہ مسلمین کی امامت کرتا ہے اور سورہ فاتحہ شریف میں بجائے الحمد والرحمن والرحیم کے الھمد والربہمن والربہیم یہ ہائے ہو ز پڑھتا ہے، ایسے شخص کو امام بنانا جائز ہے یا نہیں اور اس کے پیچھے نماز درست ہوگی یا نہیں؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.