Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حیض کی حالت میں نیاز کے لئے کھانا بنانا
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1259
- Issued
- 26 جمادی الاول 1445ھ / 11 دسمبر 2023ء
Question
کیا عورت حیض کی حالت میں نیاز کے لئے کھانا یا حلوہ بنا سکتی ہے؟
Answer (beginning)
جی ہاں، بنا سکتی ہے۔ حیض ہاتھوں میں نہیں ہوتا اور حائضہ کے ہاتھ کا کھانا مکروہ نہیں ہوتا۔ حالتِ حیض میں کھانا یا حلوہ وغیرہ پکانا جائز ہے اگرچہ نیاز کے لئے ہو۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیض والی عورت کی روٹی پکی ہوئی کھانا جائز ہے یا نہ، اور اپنے ساتھ اس کو روٹی کھلانا جائز ہے یا نہ، اور اس عرصہ میں اگر مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے، حیض کے کتنے دن ہیں؟“ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”اس کے ہاتھ کا پکاوہ کھانا بھی جائز، اسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.