Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چار پانچ سال کے بچوں کو مسجد میں لانا
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1226
- Issued
- 15 جمادی الثانی 1445ھ / 29 دسمبر 2023ء
Question
پچھلے بچے جیسے چار پانچ سال کے ہوں تو ان کو مسجد میں لانا کیا ہے؟
Answer (beginning)
بچوں کو مسجد میں لانے یا نہ لانے کے حوالے سے شریعت مطہرہ کا یہ حکم ہے کہ ایسے نا سمجھ بچے جن سے نجاست کا گمان غالب ہو، انہیں مسجد میں لانا مگر وہ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے اور اگر نجاست کا محض اختلال اور شک ہو تو مگر وہ تیزی ہی سے یعنی گناہ تو نہیں مگر بچنا بہتر ہے۔ نیز ایسا بچہ جو مسجد کے آداب کا خیال نہیں رکھ سکتا، مسجد میں اچھل کو د کرے گا، لوگوں کی نمازیں خراب کرے گا، اس کو بھی مسجد میں لانے کی اجازت نہیں۔ البتہ اگر بچہ ایسا ہے جس کے مسجد میں نجاست کرنے کا اختلال بھی نہیں اور وہ مسجد کے آداب کا بھی خیال رکھ سکتا ہے تو ایسے بچوں کو مسجد میں لانا جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.