Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گنہگار مسلمان کے لیے بد دعا کرنا کیسا ؟

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1134
Issued
20 جمادی الاول 1445ھ / 05 دسمبر 2023ء

Question

کیا گناہگار مسلمان کے لیے بددعا کر سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

گناہگار مسلمان کے لیے بھی بددعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہدایت کی دعا کرنی چاہیے البتہ اگر ظالم ہے اور دیگر مسلمانوں کو اپنے ظلم و ستم سے تکالیف پہنچا تا ہے تو اس کے لیے بددعا کرنے میں حرج نہیں۔ اللہ پاک قرآن میں فرماتا ہے: ”وَيَدْعُ الْإِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَاءً بِالْخَيْرِ وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا“ یعنی: اور (کبھی) آدمی برائی کی دعا کر بیٹھتا ہے جیسے وہ بھلائی کی دعا کرتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.