Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ کی رقم سے ملازمین کو حج کروانے کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1123
Issued
15 جمادی الاول 1445ھ / 30 نومبر 2023ء

Question

زکوٰۃ کی رقم سے ملازمین کو بذریعہ قرعہ اندازی حج کروادیاجائے، تو کیا زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟

Answer (beginning)

زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے شرعی فقیر، مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانا ضروری ہے، اگر تملیک فقیر نہ پائی جائے، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، لہذا پوچھی گئی صورت میں قرعہ اندازی میں جس کا نام آیا اگر وہ شرعی فقیر نہ ہو، یا شرعی فقیر تو ہو مگر زکوٰۃ کی رقم اس کی ملک نہ کی گئی، تو ان دونوں صورتوں میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، اس لیے ضروری ہے کہ قرعہ اندازی صرف شرعی فقیر مستحق زکوٰۃ کے درمیان کریں اور جس کا نام آئے تمام رقم اس شرعی فقیر مستحق زکوٰۃ کی ملک کر دیں، اگر شرعی فقیر کو زکوٰۃ کی رقم کا مالک بنانے کے بجائے گورنمنٹ اسکیم یا پرائیوٹ اسکیم کے تحت حج پر لے جانے والے منتظمین کو حج کی رقم ڈائریکٹ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.