Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ ادا کرنے کے لئے پوری رقم جمع نہ ہوئی تو بقیہ زکوۃ میں تاخیر کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1127
Issued
17 جمادی الاول 1445ھ / 02 دسمبر 2023ء

Question

اگر کسی کے پاس نصاب سے زیادہ سونا موجود ہو، جس پر زکوٰۃ فرض ہو رہی ہے، وہ شخص ایک ساتھ زکوٰۃ نہیں نکال سکتا، بلکہ کچھ نہ کچھ رقم ہر مہینے الگ کر کے رکھتا رہتا ہے، اب وہ دن آگیا جس دن سال پورا ہونا تھا، لیکن ابھی اس کے پاس اتنی رقم جمع نہیں ہوئی کہ جس سے پوری زکوٰۃ ادا کر سکے، تو کیا اس صورت میں زکوٰۃ کی بعض رقم ادا کرنے کی صورت میں تاخیر کرنے کی اجازت ہوگی یا کچھ سونا وغیرہ پیچ کر فوراً زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی؟

Answer (beginning)

صاحب نصاب کے مال پر جب سال مکمل ہو جائے، تو اسے فوراً زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، سال مکمل ہو جانے کے بعد تاخیر کرنا گناہ ہے، لہذا اپوچھی گئی صورت میں یا تو کسی سے قرض لے کر زکوٰۃ فوراً ادا کر دی جائے یا سونا وغیرہ پیچ کر زکوٰۃ دی جائے، تاخیر کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر سال گزرگیا اور زکوٰۃ واجب الادا ہو چکی تو اب تفریق و تدریج ممنوع ہوگی بلکہ فوراً تمام و کمال زرواجب الادا ادا کرے کہ مذہب صحیح و معتدل و مفتی پر اداے زکوٰۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تاخیر باعث گناہ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.