Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بخشش اللہ کی رحمت سے ہوگی تو نیک اعمال کیوں کئے جاتے ہیں ؟
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1112
- Issued
- 07 ربیع الثانی 1445ھ / 23 اکتوبر 2023ء
Question
کسی نے پوچھا ہے کہ اگر سب اللہ کی رحمت اور فضل سے بخشش جائیں گے، اعمال کی وجہ سے کوئی جنت میں نہیں جائے گا، تو پھر ہمیں نیک اعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم نیک اعمال کیوں کرتے ہیں؟
Answer (beginning)
بخشش اللہ کی رحمت ہی سے ہوگی، جنت کا داخلہ بھی محض اس کی رحمت کے صدقہ ہو گا، کوئی بھی صرف اپنے اعمال کے بھروسے پر بخشش کا حقدار نہیں ہو گا مگر نیک اعمال کے ذریعے اللہ کی رحمت کا اپنے آپ کو حقدار بنانے کی کوشش ہمیں کرنی ہے نہ کہ اس کی نافرمانیوں کے ذریعے اس کے غضب کا حقدار بنتا ہے کہ جنت کا داخلہ جو اللہ پاک کی رحمت سے ہے اس رحمت کا حقدار ہونا خود نیک اعمال کی بدولت ہو گا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”نیک اعمال کی اہمیت اور فضیلت کے متعلق (قرآن و حدیث میں موجود) دلائل کو شمار نہیں کیا جاسکتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.