Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں قراءت کرتے ہوئے آگے پڑھنا بھول جانا اور رکوع میں چلے جانا

Answered by
مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1103
Issued
06 ربیع الاول 1445ھ / 23 ستمبر 2023ء

Question

اگر کوئی شخص نماز میں قراءت کرتے ہوئے آگے پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے، تو کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

سورہ فاتحہ کے بعد قراءت کرتے ہوئے کچھ حصہ پڑھ لیا تھا کہ بھول گئے اور بقدر واجب قراءت (یعنی تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو) پڑھ لیا تھا کہ رکوع میں چلے گئے تو نماز درست ہو جائے گی۔ البتہ اگر واجب قراءت سے کم پڑھا تھا اور رکوع میں چلے گئے تو حکم یہ ہے کہ واپس لوٹے، بقدر واجب قراءت کرے، پھر رکوع کرے اور آخر نماز میں سجدہ سہو کرے، یوں نماز مکمل ہو جائے گی۔ اس صورت میں اگر رکوع سے واپس نہ لوٹا، تو جان بوجھ کر واجب چھوڑنے کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہو جائے گی، یعنی اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا، سجدہ سہو کفایت نہیں کرے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.