Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احرام کی حالت میں احتلام ہوگیا یا بیوی کا بوسہ لے لیا، تو دم لازم ہوگا یا نہیں؟

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
Web-1068
Issued
15 ربیع الثانی 1445ھ / 31 اکتوبر 2023ء

Question

احرام کی حالت میں احتلام ہو گیا تو کیا دم لازم ہو جائے گا؟ یونہی اگر کسی احرام کی حالت میں مرد نے بیوی کا بوسہ لے لیا تو اس صورت میں بھی دم لازم ہو گا؟

Answer (beginning)

حالت احرام میں احتلام یعنی سوتے میں منی خارج ہونے سے دم لازم نہیں ہوتا، لہذا احرام کی حالت میں ایسا ہو جائے تو غسل کر لینا کافی ہے اور احرام کی چادر کا جو حصہ ناپاک ہوا اسے پاک کر لیا جائے یا دوسری چادر پہن لی جائے۔ البتہ اگر احرام کی حالت میں معاذ اللہ کسی نے مشت زنی کی اور انزال ہو گیا تو دم لازم ہو جائے گا۔ یونہی عورت کو شہوت کے ساتھ چھوٹے یا بوسہ لینے سے بھی دم لازم ہو جاتا ہے، اگرچہ انزال نہ بھی ہو اہو۔ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: 'قبل اولمس بشهوة انزل اولاً' فی الاصح 'یعنی: 'محرم نے شہوت کے ساتھ بوس و کنار کیا تو صحیح قول کے مطابق دم لازم ہو گا انزال ہو یا نہ ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.