Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بکری کا جوٹھا پاک ہے یا ناپاک اور بکری کی جگالی کا حکم
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1046
- Issued
- 04 ربیع الثانی 1445ھ / 20 اکتوبر 2023ء
Question
بکری کا جوٹھاپاک ہے یا ناپاک؟ اگر پاک ہے تو بکری کی جگالی کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
بکری کا جوٹھاپاک ہے، جبکہ اس کے منہ پر کوئی ناپاک چیز نہ لگی ہو، اور نہ ہی اسے غلیظ چیزیں کھانے کی عادت ہو۔ بکری کے جوٹھے پانی سے وضو و غسل بھی کر سکتے ہیں۔ البتہ بکری کی جگالی ناپاک ہے کیونکہ چوپائے کی جگالی کا وہی حکم ہے جو اس کے پاخانہ کا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”سُور مائیو کل لحمه من الدواب والطیور طاهر ما خلا الدجاجة المخلاة والابل والبقر الجلالة فسُورها يكره“ یعنی: چوپائے اور پرندوں میں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا جوٹھاپاک ہے، سوائے اس مرغی کے جو غلیظ پر منہ ڈالتی ہو اور وہ گائے، نیل جن کی عادت غلیظ کھانے کی ہوتی ہے ان کا چھوٹا مکروہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.