Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کے کان میں اذان دینے کا ثبوت
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضاعطاری مدنی
- Fatwa no.
- Web-1035
- Issued
- 13 محرم الحرام 1445ھ / 01 اگست 2023ء
Question
بچے کے کان میں اذان کیوں دی جاتی ہے اور یہ کہاں سے ثابت ہے؟
Answer (beginning)
بچے کی پیدائش کے فوراً بعد اس کے سیدھے کان میں اذان اور باہمی کان میں اقامت کے الفاظ کہنا مستحب ہے، نہلانے کے بعد پہلا کام یہی ہونا چاہئے، ان شاء اللہ اس کی برکت سے بچہ شیطانی خلل اور مرگی نیز مختلف قسم کی بیماریوں اور بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے: ”جب بچہ پیدا ہو فوراً سیدھے کان میں اذان، باہمی میں تکبیر (اقامت) کہے کہ خلل شیطان و اُمُّ الصِّبْیان سے بچے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.